Mard ka raj ya aurat ka raj

وڈے چوھدری ہوراں دے بیٹے دی شادی تھی چوھدری صاحب نے ایک انوکھا فیصلہ کیا کہ پورے گاؤں کو اس خوشی میں شامل کیا جائے اس کے لیے انہوں نے اعلان کروا دیا کہ بیٹے کی شادی کی خوشی میں پنڈ کے ھر ھر گھر میں ایک جانور تحفے میں دیا جاۓ گا جس گھر میں مرد کا راج ھو گا وہاں ایک گھوڑا اور جس گھر میں عورت کا راج ھو گا وہاں ایک مرغی دی جائیگی۔

گامے کو جانوروں کی ترسیل کا کام سونپ دیا گیا پہلے ھی گھر میں گاما دونوں میاں بیوی کو سامنے بٹھا کر پوچھتا ھے گھر میں پردھان کون ھے یعنی گھر کے فیصلے کون کردا ہے۔
مرد بولا : میں

گامے نے جواب دیا کہ جناب چوھدری ہوراں دے سارے گھوڑے کسی نہ کسی کے ھو گئے ھیں اب صرف تین بچے ھیں

ایک کالا . ایک سرخ . ایک چینا

جو تمھیں پسند ھے وھ بتا دو مرد نے فورا جواب دیا کہ مجھے چینا پسند ھے ۔

پاس ہی بیٹھی بیوی منہ بناتے ہوئے اپنے خاوند کو ٹوکا اور اونچی آواز سے بولا۔
نئیں نئیں ھم کالا لیں گے میں نے دیکھا ھوا ھے اس کے ماتھے پے سفید پھلی ھے۔ وہ بڑا سوہنا ہے۔

گاما آرام سے اٹھا اور تھیلے سے ایک مرغی نکال کر اگلے گھر چلا گیا۔

گاما بتاتاھے کہ سارے گاؤں میں ھر گھر میں اسے مرغی ھی دینا پڑی۔

ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨ

بزرگ ﻧﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭨﮩﻨﯽ اٹھائی ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ بولے ۔۔۔آج ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ”

ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ ‘

ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘

ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ ‘ ﺟﻮ
ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎؤ ‘

ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎؤ ﮔﮯ ‘
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘

ﮨﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ ‘
ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎﺋﻮ ‘

ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘

**ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ**

*ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ ‘
ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ *

ﻟﻮﮒ ﻟﺬﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎؤ ‘
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ‘
ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ ‘
ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ ‘

ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎؤ ﮔﮯ ‘

ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎؤ ﮔﮯ۔

ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺟﮓ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘
ﻭﮦ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ‘

ﺳﺎﺩﮬﻮؤﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘

ﺗﻢ ﺟﺐ ﻋﺰﯾﺰﻭﮞ ‘ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ‘ ﺍﻭﻻﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮍﻧﮯ ﻟﮕﻮ
ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﺍللہ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﺗﻢ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﻮ
ﺗﻮ ﺳﻤﺠھ ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﺎﻟﻖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ

ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ‘‘

ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﮐﮭﻮﻟﯽ ‘
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﺟﺎؤ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ‘
’ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ

*ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ‘ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﻨﺎ ‘
ﯾﮧ ﺍللہ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮨﮯ ‘
اللہ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ ‘

ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺗﯽ ﮨﮯ

ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺟﻮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ
ﻣﮕﺮﺟﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ‘ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ‘

ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍللہ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ ‘
ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ

ﺗﻢ ﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ‘
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﻣﯿلہ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘‘
ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ
اشفاق احمد

Golden words

1⃣ سفرکا مزه لینا هو توساتھ میں سامان کم رکھیں.زندگی کا مزه لینا هو تودل کے ارمان کم رکھیں.
════════════
2⃣ مٹی کی پکڑ بہت مضبوط هوتی هے.سنگ مرمر پر تو پاؤں هی پھسلا کرتے هیں.
════════════
3⃣ زندگی کو اتنا سیریس مت لو
دنیا سے زنده کوئی بھی نهیں گیا.
════════════
4⃣ جن کے پاس سِکّے تھےوه مزے سے بارش میں بھیگتےرهے.جن کے پاس نوٹ تھےوه چھت تلاش کرتے ره گیۓ.
════════════
5⃣ پیسه انسان کو اوپر لیجا سکتا هےلیکن انسان پیسے کو کبھی اوپر لے کر نهیں جا سکتا.
════════════
6⃣ کمائی چھوٹی یا بڑی هو سکتی هےلیکن روٹی کا سائز هر گھر میں ایک جیسا هی هوتا هے.
════════════
7⃣ انسان کی چاهت هےکه اڑنے کو پر ملےاور پرندے کی چاهت هے رهنےکو گھر ملے.
════════════
8⃣ چھوٹی چھوٹی باتیں دل میں رکھنےسے بڑے بڑے رشتے کمزور هو جاتے هیں.
════════════
9⃣ پیٹھ پیچھے آپکی بات چلے تو گبھرانا مت کیونکہ بات انھیں کی هوتی هے جن میں کوئی بات هوتی هے..
════════════

ایک حسین واقعہ

ایک حسین واقعہ
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے
کہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم طواف فرما رہے تھے. ایک
اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر یاکریم یاکریم کی
صدا تھی حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا. ،وہ اعرابی
رکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے
یاکریم وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم سرکار بھی اس کی
آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے

.اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ .اے
روشن چہرے والے !اے حسین قد والے اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور
عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور
کرتا کہ آپ مذاق اڑاتے ہیں . سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے تبسم فرمایا
اور فرمایا ک کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟عرض کیا نہیں
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے !عرض کیا بن دیکھے ان کی
نبوت و رسالت کو تسلیم کیا مانااور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی
تصدیق کی آپ نے فرمایا مبارک ہو میں دنیا میں تیرا نبی ہوںاور آخرت میں
تیری شفاعت کرونگا وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا
! آپ نے فرمایا میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ
کرتے ہیں اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے
بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے
راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام
آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے .
کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے اعرابی نے کہا یا رسول
اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا فرمایا ہاں اگر وہ چاہے تو حساب لی گاعرض
کیا کہ اگر وہ میرا حساب لی گا تو میں اسکا حساب لونگا
آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا
اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تو
میں اسکی بخشش کا حساب لونگا میرے گناہ زیادہ ہیں کہ تیری بخشش
اگر اس نےمیری نافرنیوں کا حساب لیگا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا
اگر اسنےمیرے بخل کا. امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا
حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ و سلمیہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش
مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی پھر جبریل علیہ السلام آئےعرض کیا اے اللہ کے
رسول اللہ سلام کہتا ہےاور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں آپ کے رونے نے فرشتوں
کو تسبیح و تحلیل بھلادی ہےاپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم
اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگاکیا
عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے
کتاب.مسند احمد بن حنبلؒ

قرآن مجید میں وہ کون سی* *آرزوئیں ہیں جن کا تذکرہ

*کیا آپکو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں وہ کون سی* *آرزوئیں ہیں جن کا تذکرہ ہوا ہے ۔
*🔴”ياليتني – كنت ترابا”*
*اے کاش ! میں مٹی ہوتا*
🔸(سورۃ نبإِ # 30)
*🔴”ياليتني – قدمت لحياتي”*
*اے کاش ! میں نے اپنی (اخروی) زندگی کے لیے کچھ کیا ہوتا*
🔸(سورة الفجر # 24)
*🔴”ياليتني – *لم أوت كتابيه”*
*اے کاش ! مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا*
🔸(سورة الحاقة # 25)
*🔴”ياليتني – لم أتخذ فلاناً خليلا”*
*اے کاش! میں فلاں کو دوست نہ بناتا*
🔸(سورة الفرقان# 28)
🔴 *”ياليتنا – أطعنا الله وأطعنا” الرسولا* ً 
*اے کاش ! ہم نے اللہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کی ہوتی*
🔸(سورة الأحزاب # 66)
*🔴”ياليتني* – *اتخذت مع الرسول سبيلاًً”*
*اے کاش ! میں رسول کا راستہ اپنا لیتا*
🔸(سورة الفرقان# 27)
* *🔴”*ياليتني* – *كنت معهم فأفوز فوزاً عظيما”*
*اے کاش ! میں بھی انکے ساتھ ہوتا تو بہت بڑی کامیابی حاصل کر لیتا*
🔸(سورة النساء # 73)
🔴 *”يا ليتني* – *لم أشرك بربي احدا*ً “*
*اے کاش ! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا*
🔸(سورة الكهف# 42)
🔴 *”يا ليتنا – *نرد ولا نكذب بايات ربنا ونكون من المومنين*”
*اے کاش ! کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔*
🔸*(سورة الأنعام # 27)*
*یہ ہیں وہ آرزوئیں جو موت کے بعد حاصل ہونا ناممکن ہے ، اسلئےزندگی کی اصلاح بہت ضروری ہے۔

اللہ کے ساتھ سودا کرنے والے کبھی خسارے میں نہیں رہتے

سٹاک ایکسچینج- جاوید چوہدری

میں نے ایک دن جنید جمشید سے پوچھا ’’مولوی صاحب آپ نے گانا کیوں چھوڑدیا تھا‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور دیر تک ہنستا رہا‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ اس نے عینک اتاری‘ ٹشو سے آنکھیں صاف کیں اور ہنستے ہنستے جواب دیا ’’یار تم نے مجھے جس انداز سے مولوی صاحب کہا‘ میں وہ انجوائے کر رہا ہوں‘ تم مجھے یہ انجوائے کرنے دو‘‘ وہ اس کے بعد دوبارہ ہنس پڑا‘ وہ ہنستے ہنستے خاموش ہوا اور پھر بولا ’’یار گانے نے مجھے شہرت دی‘ عزت دی اور پیسہ دیا‘ اگر کچھ نہیں دیا تو وہ سکون تھا‘ سکون مجھے مولوی صاحب بن کر ملا اور یہ جب مجھے مل گیا تو مجھے پتہ چلا سکون دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہوتا ہے۔
پیسہ‘ عزت اور شہرت تینوں مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘‘ وہ اس کے بعد دوبارہ ہنسا اور بولا ’’میں ویمبلے میں شو کرنا چاہتا تھا‘ میری خواہش تھی‘ میرا خیمہ درمیان میں ہو اور دوسرے گلوکاروں‘ موسیقاروں اور اداکاروں کے خیمے دائیں بائیں ہوں‘ میں 1992ء میں ویمبلے گیا‘ امیتابھ بچن کا خیمہ درمیان میں تھا‘ لوگ اس کے ہاتھ چوم رہے تھے‘وہ اس پر واری واری جا رہے تھے‘ وہ اس کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے ایک دوسرے کو روند رہے تھے‘ میں نے یہ عزت دیکھی تو میرے دل میں خیال آیا‘ کیا میں بھی کبھی اس مقام تک پہنچ سکتا ہوں‘ کیا مجھے بھی یہ عزت‘ لوگوں کا یہ والہانہ پن مل سکتا ہے‘ وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی۔
اللہ نے میری دعا سن لی اور وہ وقت آ گیا جب میرا خیمہ ٹھیک اس جگہ تھا جہاں کبھی امیتابھ بچن نے راتیں گزاریں تھیں‘ نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اس دن میرے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے بھی ایک دوسرے پر گر رہے تھے‘ مجھے بہت خوشی ہوئی‘ میں اندر سے نہال ہو گیا‘ میں کئی دن اس سرشاری میں رہا لیکن پھر‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ وہ دیر تک کچھ سوچتا رہا‘ پھر اس نے سر اٹھایا‘ میری طرف دیکھا اور بولا ’’لیکن پھر ایک نئے احساس نے اس سرشاری کی جگہ لے لی۔
مجھے محسوس ہوا میری کامیابی نے مجھے عزت تو دے دی لیکن میں سکون سے محروم ہوں‘ مجھے یہ بھی محسوس ہوا سکون عزت سے بڑی چیز ہے اور مجھے اس بڑی چیز کی طرف جانا چاہیے‘‘ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ وہ بولا ’’میں اس کے بعد بھی گاتا رہا‘ لوگ میرا گانے سنتے تھے‘ جھومتے تھے اور مجھے چومتے تھے‘ دل دل پاکستان اور سانولی سلونی سی محبوبہ میری پہچان بن گیا‘ میں جہاں جاتا تھا لوگ مجھ سے فرمائش کرتے تھے‘ جے جے سانولی سلونی ہو جائے اور میں ذرا سا گنگنا کر آگے نکل جاتا تھا لیکن میں اب عزت کے ساتھ ساتھ سکون بھی تلاش کر رہا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور مجھے یہ نعمت بھی مل گئی‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔
میں نے اس سے پوچھا ’’تم تبلیغی جماعت اور مولانا طارق جمیل کے قابو کیسے آ گئے‘‘ اس نے ایک قہقہہ لگایا اور بولا ’’پاکستان کا ہر شہری زندگی میں کبھی نہ کبھی ڈاکٹر‘ پولیس اور تبلیغی جماعت کے قابو ضرور آتا ہے‘ زیادہ تر لوگ ان کے ساتھ چند دن گزار کر واپس آ جاتے ہیں لیکن تھوڑی سی تعداد دائمی مریض‘ عادی مجرم اور مولوی صاحب بن کر مستقلاً ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔
میں بھی ایک دوست کے ذریعے مولانا طارق جمیل سے ملا اور پھنس گیا‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کیسے پھنس گئے‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ’’مجھے اس شخص نے اتنی محبت دی جو مجھے اس سے پہلے کسی سے نہیں ملی تھی‘ یہ محبت میرے لیے نشہ ثابت ہوئی اور میں اس نشے کی لت کا شکار ہوتا چلا گیا‘ میں نے دین کا مطالعہ شروع کر دیا‘ میں شغل شغل میں چلے لگانے لگا اور مجھے جب ہوش آئی تو میں اس وقت تک اچھا خاصا مولوی صاحب بن چکا تھا‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’آپ اچھے خاصے سمجھ دار انسان ہیں‘ آپ درمیان میں بھاگ کیوں نہیں گئے؟‘‘۔
اس نے ایک اور قہقہہ لگایا اور بولا ’’میں نے بھاگنے کی ایک آدھ ٹرائی کی تھی‘ میں نے گانا چھوڑ دیا تھا لیکن پھر اچانک احساس ہوا جنید جمشید تم کھاؤ گے کہاں سے‘تمہیں اس کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں آتا‘ گانا میری زندگی بھی تھا‘ مجھے محسوس ہوتا تھا میں نے اگر یہ بند کر دیا تو مجھ سے میری زندگی چھن جائے گی چنانچہ میں نے شیو کی اور اپنی دنیا میں واپس آ گیا لیکن چند دن بعد غلطی کا احساس ہو گیا‘ میں اس نتیجے پر پہنچ گیا مجھے سکون اور شہرت‘ دولت‘ عزت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔
میرے اندر کشمکش جاری تھی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا‘ میرے دماغ سے غلط فہمیوں کے اندھیرے چھٹ گئے اور میں دوبارہ اس لائین پر آ گیا جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا‘ میں تبلیغ والوں کے ساتھ شامل ہو گیا‘‘ میں نے پوچھا ’’لیکن کیا شہرت‘ عزت اور دولت آسانی سے چھوٹ گئی؟‘‘ تڑپ کر جواب دیا ’’بہت مشکل تھا‘ گانا میرا واحد سورس آف انکم تھا‘ مجھے شہرت کی لت بھی پڑ چکی تھی‘ میرے لیے فینز‘ تصویریں اور آٹوگرافس زندگی تھی‘ میرا گانا میرا شناختی کارڈ تھا‘ میں اس شناختی کارڈ کے بغیر کچھ بھی نہیں تھا چنانچہ میں گانے کے بغیر معاشی‘ سماجی اور ذہنی طور پر زندہ نہیں رہ سکتا تھا لیکن پھر میں نے ایک سودا کیا‘ میں نے اللہ کے نام پر اپنے تینوں اثاثے قربان کر دیے۔
میں نے عزت‘ شہرت اور روزگار تینوں چھوڑ دیے اور اللہ کی راہ پر لگ گیا‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے پوچھا’’کیوں؟ آپ نے یہ کیوں کیا؟‘‘ وہ بولا’’ میں بنیادی طور پر اللہ کا قانون ٹیسٹ کر رہا تھا‘ میں نے کسی جگہ پڑھا تھاجو شخص اللہ کے ساتھ سودا کرتا ہے‘ جو اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنی عزیز ترین چیز قربان کردیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کبھی مایوس نہیں کرتا‘ خدا کی ذات اسے اس کے حق سے زیادہ نوازتی ہے‘ میں نے اللہ کے اس اعلان‘ اس وعدے کو ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا‘ میں نے اپنا کل اثاثہ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا‘ میرے بھائی جاوید آپ یقین کرو اللہ تعالیٰ نے میری تینوں چیزیں ستر سے ضرب دے کر مجھے واپس لوٹا دیں۔
میں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں لاکھوں روپے کی قربانی دی تھی‘ رب کی ذات نے مجھے کروڑوں روپے سے نواز دیا‘ میں نے آج تک ایک رومال نہیں بنایا‘ آپ اللہ کا کرم دیکھو‘ دنیا میں جنید جمشید کے نام سے کپڑوں کا سب سے بڑا پاکستانی برانڈ چل رہا ہے‘ میں راک اسٹار کی حیثیت سے مشہور تھا‘ آپ اللہ کا کرم دیکھو میں آج نعت خوانی اور اللہ کے ذکر کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہوں‘ لوگ مجھے دل دل پاکستان کی وجہ سے عزت دیتے تھے لیکن آج لوگ الٰہی تیری چوکھٹ پر سوالی بن کے آیا ہوں کے حوالے سے میرے ہاتھ چومتے ہیں۔
ْمیں کبھی جینز پہن کر اسٹیج پر ناچتا تھا اور عزت دار لوگ اپنی بہو بیٹیوں کو میرے سائے سے بچا کر رکھتے تھے لیکن میں آج سر پر عمامہ اور ٹوپی رکھ کر منبر رسولؐ پر بیٹھتا ہوں اور لوگ مجھ سے اپنے بچوں کے لیے دعا کرواتے ہیں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کیا یہ اس سے ستر گناہ زیادہ نہیں جس کی میں نے قربانی دی تھی‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔
میں اس وقت آج کے مقابلے میں زیادہ گمراہ‘ زیادہ سنگدل اور زیادہ بددیانت تھا چنانچہ میں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا‘ میں نے اس سے کہا ’’آپ اگر ان مولویوں کے ہاتھ سے بچ گئے جو اس وقت آپ کی گردن کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں‘ جو آپ کو گستاخ اور حضرت عائشہ ؓ کا گناہ گار سمجھ رہے ہیں تو میں آپ کو آپ کے سوال کا جواب ضرور دوں گا‘‘ وہ بھی ہنس پڑا لیکن میں نے جب سات دسمبر کو جنید جمشید کے ائیر کریش کی خبر سنی اور اس کے بعد جس طرح پورے ملک کو اس کے سوگ میں ڈوبتے دیکھا اور پھر 15دسمبر کو کراچی میں اس کا جنازہ دیکھا تو میں اس کو سچا ماننے پر مجبور ہو گیا۔
ملک میں ہزاروں علماء کرام‘ سیاستدان‘ بیورو کریٹس‘ صوفیاء کرام‘ اداکار‘ گلوکار اور ارب پتی تاجر فوت ہوئے‘ ان کے جنازے جنازہ گاہوں میں پڑھائے گئے لیکن جنید جمشید کا جنازہ اسٹیڈیم میں پڑھا گیا اور اس میں حقیقتاً لاکھوں لوگ شریک تھے‘ تاحد نظر سر ہی سر اور بازو ہی بازو تھے‘ جنید جمشید کو اس سے پہلے ائیرفورس نے گارڈ آف آنر بھی دیا‘ اس کے کفن کو پاکستانی پرچم میں بھی لپیٹا اور اسے سی ون تھرٹی کے ذریعے اسلام آباد سے کراچی بھی پہنچایا ‘ یہ اعزاز آج تک کسی گلوکار کو حاصل ہوا؟ جی نہیں! دنیا میں مہدی حسن اور نورجہاں جیسے گلوکار دوبارہ پیدا نہیں ہوں گے۔
بڑے غلام علی خان‘ نصرت فتح علی خان‘ عزیز میاں قوال‘ استاد امانت علی خان اور صابری برادران موسیقی کے استاد تھے‘ یہ استاد کس عالم میں دنیا سے رخصت ہوئے اور ان کے جنازے کیسے اور کتنے تھے؟ ہم سب جانتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جو عزت جنید جمشید جیسے ایک سابق گلوکار کو دی یہ بھی سارا زمانہ جانتا ہے ‘ موسیقی کے استاد ہونے کے باوجود یہ لوگ دنیا سے کسمپرسی میں رخصت ہوئے جب کہ جنید جمشید کے غم کو ہر شخص نے ٹیس کی طرح محسوس کیا‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے وہ ٹھیک کہہ رہا تھا‘ اس نے اللہ تعالیٰ سے سودا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی قربانی کو ستر سے ضرب دے کر اس کے تمام اثاثے اسے لوٹا دیے۔
جنید جمشید نے ہم جیسے لوگوں کی آنکھیں کھول دیں‘ اس نے ثابت کر دیا اللہ کے ساتھ سودا کرنے والے کبھی خسارے میں نہیں رہتے‘ عزت قربان کرو گے تو اللہ عزت کو ستر گنا کر کے لوٹائے گا اور شہرت اور دولت کی قربانی دو گے تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی ستر سے ضرب دے کر لوٹائے گا‘ بے شک اللہ تعالیٰ کی اسٹاک ایکسچینج کائنات کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج ہے‘ یہ کبھی کریش نہیں ہوتی‘ یہ کبھی اپنے شیئر ہولڈرز کا خسارہ نہیں ہونے دیتی‘ اس کا انڈیکس ہمیشہ اوپر جاتا ہے‘ اوپر سے اوپر اور اوپر۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کا سنہرہ قول

⭕ *سلطان صلاح الدین ایوبی کا سنہرہ قول !!!!*

⭕ *اگر تم نے کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو اس کی نوجوان نسل میں بے حیائی پھیلا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔*

🌱 سلطان صلاح الدین ایوبی
آپ کا یہ عظیم قول تاریخ کے آئینے!!!

🍀 یہ تاریخ کا وہ منظر ہے ،جب جولائی 1187ء کو حطین کے میدان میں سات صلیبی حکمرانوں کی متحدہ فوج کو جو مکہ اور مدینے پر قبضہ کرنے آئی تھی ،

🍀 ایوبی سپاہ نے عبرتناک شکست دے کر مکہ اور مدینہ کی جانب بری نظر سے دیکھنے کا انتقام لے لیا تھا اور اب وہ حطین سے پچیس میل دور عکرہ پر حملہ آور تھا،

🍀 سلطان صلاح الدین ایوبی نے یہ فیصلہ اِس لیے کیا تھا کہ عکرہ صلیبیوں کا مکہ تھا،

🍀 سلطان اُسے تہہ تیغ کرکے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا انتقام لینا چاہتا تھا،

🍀 دوسرے بیت المقدس سے پہلے سلطان عکرہ پر اِس لیے بھی قبضہ چاہتا تھا کہ صلیبیوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے اور وہ جلد ہتھیار ڈال دیں،

🍀 چنانچہ اُس نے مضبوط دفاع کے باوجود عکرہ پر حملہ کردیا اور 8جولائی 1187ء کو عکرہ ایوبی افواج کے قبضے میں تھا،

🍀 اِس معرکے میں صلیبی انٹلیجنس کا سربراہ ہرمن بھی گرفتار ہوا،

🍀 جسے فرار ہوتے ہوئے ایک کماندار نے گرفتار کیا تھا۔

🍀 گرفتاری کے وقت ہرمن نے کماندار کو خوبصورت لڑکیوں اور بہت سے سونا دے کر فرار کرانے پیش کش کی تھی،

🍀 مگر کماندار نے اُسے رد کردیا، ہرمن کو جب سلطان صلاح الدین ابوبی کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس نے گرفتار کرنے والے کماندار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سلطان سے کہا

🍀 *”سلطان معظم !*
اگر آپ کے تمام کماندار اِس کردار کے ہیں جو مجھے پکڑ کر لایا ہے تو میں آپ کو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ کو بڑی سے بڑی فوج بھی یہاں سے نہیں نکال سکتی،

🍀 اُس نے کہا، میری نظر انسانی فطرت کی کمزوریوں پر رہتی ہے،

🍀 میں نے آپ کے خلاف یہی ہتھیار استعمال کیا،

🍀 میرا ماننا ہے کہ جب یہ کمزوریاں کسی جرنیل میں پیدا ہو جاتی ہیں یا پیدا کردی جاتی ہیں تو شکست اُس کے ماتھے پر لکھ دی جاتی ہے ،

🍀 میں نے آپ کے یہاں جتنے بھی غدار پیدا کیے، اُن میں سب سے پہلے یہی کمزوریاں پیدا کیں،

🍀 حکومت کرنے کا نشہ انسانوں کو لے ڈوبتا ہے،

🍀 *سلطان معظم !*
آپ کے جاسوسی کا نظام نہایت ہی کارگر ہے ،

🍀 آپ صحیح وقت اور صحیح مقام پر ضرب لگاتے ہیں،
مگر میں آپ کو یہ بتا نا چاہتا ہوں کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک ہے۔

🍀 ہم نے آپ کے یہاں جو بیج بودیا ہے ،وہ ضائع نہیں ہوگا،
آپ چونکہ ایمان والے ہیں
اِس لیے آپ نے بے دین عناصر کو دبالیا،

🍀لیکن ہم نے آپ کے امراء کے دلوں میں حکومت ، دولت ،لذت اور عورت کا نشہ بھردیا ہے،

🍀 آپ کے جانشین اِس نشے کو اتار نہیں سکیں گے اور میرے جانشین اِس نشے کو تیز کرتے رہیں گے۔

🍀 *سلطان معظم !*
یہ جنگ جو ہم لڑرہے ہیں ،
یہ میری اور آپ کی ،
یا ہمارے بادشاہوں کی اور آپ کی جنگ نہیں،

🍀 یہ کلیسا اور کعبہ کی جنگ ہے،
جو ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گی،
اب ہم میدان جنگ میں نہیں لڑیں گے،
ہم کوئی ملک فتح نہیں کریں گے،

🍀 ہم مسلمانوں کے دل و دماغ کو فتح کریں گے،
ہم مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا محاصرہ کریں گے،
ہماری لڑکیاں ،ہماری دولت، ہماری تہذیب کی کشش جسے آپ بے حیائی کہتے ہیں، اسلام کی دیواروں میں شگاف ڈالے گی،

🍀 پھر مسلمان اپنی تہذیب سے نفرت اور یورپ کے طور طریقوں سے محبت کریں گے،

🍀 *سلطان معظم !*
وہ وقت آپ نہیں دیکھیں گے ،
میں نہیں دیکھوں گا ،
ہماری روحیں دیکھیں گی۔”

🍀 سلطان صلاح الدین ایوبی، جرمن نژاد ہرمن کی باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا،

🍀 ہرمن کہہ رہا تھا،
*”سلطان معظم !*
آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے عرب کو کیوں میدان جنگ بنایا ؟
صرف اِس لیے کہ ساری دنیا کے مسلمان اِس خطے کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہیں اور یہاں مسلمانوں کا کعبہ ہے،

🍀 ہم مسلمانوں کے اِس مرکز کو ختم کررہے ہیں،
آپ آج بیت المقدس کو ہمارے قبضے سے چھڑالیں گے ،
لیکن جب آپ دنیا سے اٹھ جائیں گے،
مسجد اقصیٰ پھر ہماری عبادت گاہ بن جائے گی،

🍀 میں جو پیشین گوئی کررہا ہوں ، یہ اپنی اور آپ کی قوم کی فطرت کو بڑی غور سے دیکھ کر کررہا ہوں، ہم آپ کی قوم کو ریاستوں اور ملکوں میں تقسیم کرکے انہیں ایکدوسرے کا دشمن بنادیں گے اور فلسطین کا نام و نشان نہیں رہے گا،

🍀 یہودیوں نے آپ کی قوم کے لڑکوں اور لڑکیوں میں لذت پرستی کا بیج بونا شروع کردیا ہے،

🍀 *اِن میں سے اب کوئی نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی پیدا نہیں ہوگا۔*

Sent from my iPhone

’’بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لے چل

بغداد پر تاتاری فتح کے بعد، ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
جواب آیا: ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ دخترِ ہلاکو نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا حاضر کیا گیا۔
شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟
عالم: یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں
شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟
عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔
شہزادی: تو کیا اللہ نے آچ ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟
عالم: یقیناً کردیا ہے-
شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟
عالم: نہیں
شہزادی: کیسے؟
عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟
شہزادی: ہاں دیکھا ہے
عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے بھی رکھ چھوڑے ہوتے ہیں؟
شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔
عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر دینے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟
شہزادی: وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔
عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
شہزادی: جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔
عالم: تو آپ تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہیں؛ جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، تب تک ہمارا امن چین تم ہم پر حرام کیے رکھوگے؛ ہاں جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔
مسلمان عالم کے اس جواب میں آج ہمارے غوروفکر کےلیے بہت کچھ پوشیدہ ہے!
۔
خدایا ہمارے اس بھٹکے ہوئے گلے کو اپنے در پر واپس آنے کی توفیق دے؛ عبادتِ طاغوت کی یہ اندھیری طویل رات ہم سے دور کردے۔!
’’بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لے چل’’!

khuda aur rasool na banna

🔹مولانا احمد علی لاہوری علیہ الرحمہ کے متعلق سنا کہ انھوں نے اپنے ایک مجاز بیعت کو خلافت دی۔ رخصت ہوتے وقت انھوں نے نصیحت کی فرمائش کی تو مولانا نے فرمایا کہ نصیحت کی کوئی خاص ضرورت نہیں، بس دو باتوں کا خیال رکھنا: ایک یہ کہ خدا نہ بننا اور دوسرا یہ کہ رسول نہ بننا۔
وہ حیران ہوئے اور کہا کہ استغفر اللہ، اس کا کوئی مسلمان تصور بھی کیسے کر سکتا ہے؟ آپ کی بات کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔
مولانا نے فرمایا، خدا بننے کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ خواہش کرو کہ زندگی میں، میں جو چاہوں، وہ ہو جائے۔ سو یہ شان تو صرف اللہ کی ہے۔
اور رسول بننے کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ تمنا کرو کہ ساری دنیا مجھ سے عقیدت رکھے۔ سو یہ مقام بھی صرف رسول کا ہے۔

تلاش کر

مــــــــــنزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مــل جائے تجھکو دریا تو سمندر تلاش کر
ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے
پـــتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر

سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزرگئیں
دنیا تیری بــدل دے وہ ســـــجدہ تلاش کر
ایـــــــمان تیرا لُٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے
ایـــــــماں تیرا بــــــــچالے وہ رہبر تلاش کر

ہر شخص جل رہا ہے عداوت کی آگ میں
اس آگ کو بجھا دے وہ پانی تـــلاش کر
کـــــردے ســــــوار اونٹ پہ اپنے غلام کو
پـــیدل ہی خود چلے جو وہ آقا تلاش کر